آج پھر جینے کی تمنا ہے
آج پھر مرنے کا ارادہ ہے
.یہ دو ایسے جملے ہیں جو ہر کوئی کہتا ہی کہتا ہے
کوئی اگر نا بھی کہنا چاہے لیکن زندگی کبھی کسی. ایسے موڈ پہ کھڑا کردیتی ہے جہاں پر ان دو جملوں کے سوا کوئی چارا نہیں بچتا
جب انسان خوش ہوتا ہے تو کہتا ہے کہآج پھر جینے کی تمنا ہے
جب کوئی غم ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ آج پھر مرنے کا ارادہ ہے
بہرحال یہی تو ہے زندگی کبھی اُدھر تو کبھی اِدھر کبھی اوپر تو کبھی نیچے کبھی خوشی تو کبھی غم
ہر حال میں زندگی کو تو پار کرنا ہی ہے.
