میں اور میری تنہائی

میں اکیلا ہوں پر تنہا نہیں

میرے ساتھ خدا ہے پرتو نہیں

وہ گزرے ہوئے لمحے آج پھر یاد آتے ہیں

وہی تو ہے بس میرا جس کی مجھے ضرورت ہے

تو نہ آئے یہاں تیری وہ جرات نہیں

میں یہاں ہو تو کہاں ہے مجھ میں تیری کمی ہے

دن ہو یا رات گزر جائے آنکھوں میں نمی سی ہے

میں ڈھونڈوں تجھے ہر جائی

میں ہوں اور میری تنہائی

خالی ہاتھ ہے میرے تجھے کیا کردوں میں عطا

ایسے نا مڑ جا تو ایسی نا دے تو سزا

کیا ہے مجھ میں برائی

میں ہوں اور میری تنہائی.

(عامر اشرف )

Leave a comment